بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امامِ شہیدِ امت فرماتے ہیں: ""خداوند متعال اچانک اربعین ریلیوں کو اس انداز سے عظمت عطا فرماتا ہے، اس طرح جلوہ دیتا [اور نمایاں کرتا] ہے۔ یہ اللہ کی خدا کی آیتِ عظمیٰ [عظیم ترین نشانی] ہے، یہ امت اسلامیہ کی نصرت کے لئے مشیتِ الٰہیہ کا مظہر ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادہ کہ امت مسلمہ کی نصرت فرمائے۔"

رہبرِ شہیدِ انقلاب اپنی جدوجہد کے فکری منظومے میں اربعین حسینیؑ کے کروڑوں افراد پر مشتمل ریلیوں کو ایک عظیم جنگی مشق اور محاذِ حق کے لئے ایک ممتاز قوت اور آیت کریمہ "وَاَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ" کا مصداق سمجھتے تھے؛ اسی لئے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اربعین کی عظمت کو وسیع تر، اور گہرا کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اربعین ریلی اسلام کی قوت ہے
اسی سلسلے میں، انہوں نے 13 اکتوبر 2019ع کو اپنے خطاب میں سورہ انفال کی آیت 60 کا حوالہ دیا، جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے پرچم پر بھی نقش ہے، اور فرمایا: "عالم اسلام اس قوت کی ایک مثال آج دیکھ رہا ہے اور وہ اربعین کا جلوس ہے؛ "وَاَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ"؛ اربعین کا جلوس اسلام کی قوت ہے، حق و حقیقت کی قوت ہے، محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی قوت ہے کہ کروڑوں کا عظیم اجتماع اس انداز سے کربلا کی طرف، حسینؑ کی طرف، قربانی اور شہادت کے اعلیٰ ترین مقام کی طرف، روانہ ہو جاتا ہے جس سے تمام احرارِ عالم کو درس لینا چاہئے۔"
ایک عظیم اور حیرت انگیز جنگی مشق
جدوجہد کے اس گہرے نقطۂ نظر سے، اربعین کی پیادہ روی دشمن کے مقابلے میں ایک عظیم جنگی مشق کے طور پر دیکھی جاتی ہے جس پر دشمن حیران ہے، اور اس ابھرتی ہوئی قوت کے سامنے پہلے تو خاموشی کی سازش کا سہارا لیتا ہے اور پھر مخالفانہ تجزیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
امامِ شہید نے 4 اکتوبر 2018ع کو اپنے خطاب میں فرمایا: "اربعین کا واقعہ ایک ناقابلِ توصیف واقعہ ہے، بالکل عدیم المثال ہے؛ ایک عظیم اور حیرت انگیز جنگی مشق ہے، اس غیر معمولی حرکت کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ہے۔ مغربی لوگ بھی اس حرکت کو سمجھ نہیں سکتے کہ یہ ہے کیا، کیسے ممکن ہے؟ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے تشہیری ادارے پہلے کئی سال تک تو خاموش رہتے ہیں، "خاموشی کی سازش"؛ [حالانکہ] دنیا میں کہیں بھی معمولی سی حرکت ہو تو یہ اس کی کوریج کرتے ہیں۔ کئی سالوں تک انہوں نے اس عظیم عوامی حرکت کا نام تک نہیں لیا، اس کی طرف اشارہ تک نہیں کیا، اس کی کوئی تصویر شائع نہیں کی... پھر کچھ اس پر بات کی، دشمنی پر مبنی تجزیئے، غلط تجزیئے پیش کئے جو اس راہ کے مؤمنوں کے نزدیک بے ہودہ تجزیئے ہیں۔ برطانوی ریڈیو اور اس جیسے ذرائع نے دشمنی پر مبنی تجزیئے پیش کئے۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ اس سرچشمۂ فیض کا ابال انہیں شدت سے پریشان کر رہا ہے، وہ اس کا تجزیہ کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔"

اربعین کا جلوس یعنی خدا نے ارادہ فرمایا ہے کہ امت اسلامیہ کی نصرت فرمائے
امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای اربعین حسینیؑ کے جلوس کو بھی ایک عظیم الٰہی آیت (نشانی) اور دشمنوں کے مقابلے میں محاذِ حق کے لئے اللہ کی نصرت کا مظہر سمجھتے ہیں جو مختلف اقسام کے اوزاروں کے ساتھ امت اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہیں۔
امامِ شہیدِ امت 18 ستمبر 2019ع کو اپنے خطاب میں اس موضوع کو اس طرح بیان فرمایا: "ہم شیعہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم امام حسین (علیہ السلام) کے پیروکار ہیں، لیکن امام حسین (علیہ السلام) صرف ہمارے نہیں ہیں؛ اسلامی مذاہب، شیعہ اور سنی، سب امام حسین (علیہ السلام) کے پرچم تلے ہیں۔ اس عظیم جلوس میں وہ لوگ بھی شریک ہیں جو اسلام کے پابند نہیں ہیں اور یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا؛ یہ ایک عظیم الٰہی نشانی ہے جو خدائے متعال [دنیا والوں کو] دکھا رہا ہے۔ اس دور میں جب اسلام کے دشمن اور امت اسلامیہ کے دشمن مختلف اقسام کے اوزاروں اور وسائل، دولت، سیاست، اور ہتھیاروں کے ساتھ امت اسلامیہ کے خلاف کام کر رہے ہیں، خداوند متعال اچانک اربعین کے جلوس کے واقعے کو اس انداز سے عظمت عطا کرتا ہے، اس طرح جلوہ گر کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم ترین نشانی ہے، یہ امت اسلامیہ کی نصرت کے لئے خدا کی مشیت کا مظہر ہے، یہ عیاں کرتا ہے کہ خدائے متعال کی مشیت یہ ہے کہ امت اسلامیہ کی نصرت فرمائے۔"

اربعین میں اتحاد سے سبق لینا چاہئے
امامِ شہیدِ امت نے اربعین میں اتحاد کو بھی دشمنوں کے مقابلے میں دنیاے اسلام کی عزتمندی کے لئے ایک نمونہ قرار دیا اور فرمایا: "یہ ایک عجیب واقعہ تھا، کربلا کا اربعین۔ دشمنان اسلام اور دشمنان اہل بیت (علیہم السلام) نے بزعمِ خود' اس راستے کو بند کر دیا تھا۔ دیکھ لیں کہ کتنی عظیم حرکت واقع ہوئی! جب جسم بھی ایک دوسرے کے ساتھ یکجا ہو جاتے ہیں تو اس کا عکس اس انداز سے ابھرتا ہے۔ اگر ہم ایک ساتھ اکٹھے ہوں، اسلامی ممالک، مسلمان قومیں - سنی اور شیعہ اور تسنّن و تشیّع کے مختلف فرقے - ایک دوسرے کے ساتھ ان کے دل صاف ہوں، ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی نہ رکھتے ہوں، بدنیتی نہ رکھتے ہوں، ایک دوسرے کی توہین نہ کریں، تو دیکھیں دنیا میں کیا ہوتا ہے؛ اسلام کے لئے کتنی عزت پیدا ہوتی ہے! اتحاد؛ اتحاد" (9/جنوری/2015ع)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حسین خان بابازاده
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ